27,569 views 355 on YTPak
40 3

Published on 06 Aug 2009 | over 7 years ago

Tableau on 'Aik Makra aur Makhi', poem for children from Baang-i-Dara (The Call of the Marching Bell; 1924), the third book of poetry by Allama Iqbal, accompanied by a musical rendition of the poem and preceded by a brief introduction for beginners by Muhammad Suheyl Umar, Director, Iqbal Academy Pakistan.

The tableau is included in 'Iqbal ki Phulwari', a DVD for schools and educational institutions. In Urdu.

Starring: Shujaat Hashmi and young talent. Conceived and Directed by Shujaat Hashmi; Executive Producer: Muhammad Suheyl Umar. Copyright 2007 Iqbal Academy Pakistan, Federal Ministry of Culture (www.allamaiqbal.com).

ايک مکڑا اور مکھي
ماخوذ - بچوں کے ليے

اک دن کسي مکھي سے يہ کہنے لگا مکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گزر روز تمھارا
ليکن مري کٹيا کي نہ جاگي کبھي قسمت
بھولے سے کبھي تم نے يہاں پائوں نہ رکھا
غيروں سے نہ مليے تو کوئي بات نہيں ہے
اپنوں سے مگر چاہيے يوں کھنچ کے نہ رہنا
آئو جو مرے گھر ميں تو عزت ہے يہ ميري
وہ سامنے سيڑھي ہے جو منظور ہو آنا
مکھي نے سني بات جو مکڑے کي تو بولي
حضرت! کسي نادان کو ديجے گا يہ دھوکا
اس جال ميں مکھي کبھي آنے کي نہيں ہے
جو آپ کي سيڑھي پہ چڑھا ، پھر نہيں اترا

مکڑے نے کہا واہ! فريبي مجھے سمجھے
تم سا کوئي نادان زمانے ميں نہ ہو گا
منظور تمھاري مجھے خاطر تھي وگرنہ
کچھ فائدہ اپنا تو مرا اس ميں نہيں تھا
اڑتي ہوئي آئي ہو خدا جانے کہاں سے
ٹھہرو جو مرے گھر ميں تو ہے اس ميں برا کيا!
اس گھر ميں کئي تم کو دکھانے کي ہيں چيزيں
باہر سے نظر آتا ہے چھوٹي سي يہ کٹيا
لٹکے ہوئے دروازوں پہ باريک ہيں پردے
ديواروں کو آئينوں سے ہے ميں نے سجايا
مہمانوں کے آرام کو حاضر ہيں بچھونے
ہر شخص کو ساماں يہ ميسر نہيں ہوتا
مکھي نے کہا خير ، يہ سب ٹھيک ہے ليکن
ميں آپ کے گھر آئوں ، يہ اميد نہ رکھنا
ان نرم بچھونوں سے خدا مجھ کو بچائے
سو جائے کوئي ان پہ تو پھر اٹھ نہيں سکتا

مکڑے نے کہا دل ميں سني بات جو اس کي
پھانسوں اسے کس طرح يہ کم بخت ہے دانا
سو کام خوشامد سے نکلتے ہيں جہاں ميں
ديکھو جسے دنيا ميں خوشامد کا ہے بندا
يہ سوچ کے مکھي سے کہا اس نے بڑي بي !
اللہ نے بخشا ہے بڑا آپ کو رتبا
ہوتي ہے اسے آپ کي صورت سے محبت
ہو جس نے کبھي ايک نظر آپ کو ديکھا
آنکھيں ہيں کہ ہيرے کي چمکتي ہوئي کنياں
سر آپ کا اللہ نے کلغي سے سجايا
يہ حسن ، يہ پوشاک ، يہ خوبي ، يہ صفائي
پھر اس پہ قيامت ہے يہ اڑتے ہوئے گانا
مکھي نے سني جب يہ خوشامد تو پسيجي
بولي کہ نہيں آپ سے مجھ کو کوئي کھٹکا
انکار کي عادت کو سمجھتي ہوں برا ميں
سچ يہ ہے کہ دل توڑنا اچھا نہيں ہوتا
يہ بات کہي اور اڑي اپني جگہ سے
پاس آئي تو مکڑے نے اچھل کر اسے پکڑا
بھوکا تھا کئي روز سے اب ہاتھ جو آئي
آرام سے گھر بيٹھ کے مکھي کو اڑايا

Loading related videos...