74,807 views 440 on YTPak
164 21

Published on 28 May 2009 | over 8 years ago

Uncollected poem from Allama Iqbal written for children in early 20th Century.

This audio and animation is part of Mera Iqbal 1 (recommended for students of Grade 4) in a set of educational books and multimedia jointly produced by Educational Resource Development Centre (ERDC) and Iqbal Academy Pakistan in 2008.

Singers: Sumera Shahzad; Music: Khadim Husain; Animation: Syed Hasan Ashraf. Subject Consultant: Ahmed Jawaid; Supervision: Muhammad Suheyl Umar; Released in Mera Iqbal CD-1 (For students of Grade 1). Copyright Iqbal Academy Pakistan (www.allamaiqbal.com)

شہد کی مکھی

اس پھول پہ بیٹھی کبھی اس پھول پہ بیٹھی
بتلاوء تو کیا ڈھونڈتی ہے شہد کی مکھی
کیوں آتی ہے کیا کام ہے گلزار میں اس کا
یہ بات جو سمجھاوء تو سمجھیں تمہیں دانا
چہکارتے پھرتے ہیں جو گلشن میں پرندے
کیا شہد کی مکھی کی ملاقات ہے ان سے
عاشق ہے قمری پہ کہ بلبل کی ہے شیدا
یا کھینچ کے لاتا ہے اسے سحر کا چسکا
دل باغ کی کلیوں سے تو اٹکا نہیں اس کا؟
بھاتا ہے اسے ان کے چٹخنے کا تماشا
سبزے سے ہے کچھ کام کہ مطلب ہے صبا سے
یا پیار ہے گلشن کے پرندوں کی صدا سے؟
بھاتا ہے اسے پھول پہ بلبل کا چہکنا
یا سرو پہ بیٹھے ہوءے قمری کا یہ گانا؟
پیغام کوءی لاتی ہے بلبل کی زبانی
یا کہتی ہے پھول کے کانوں میں کہانی؟
کیوں باغ میں آتی ہے؟ یہ بتلاوء تو جانیں
کیا لینے کو آتی ہے؟ یہ بتلاوء تو جانیں
بے وجہ تو آخر کوءی آنا نہیں اس کا
ہشیار ہے مکھی اسے غاافل نہ سمجھنا
بے سود نہیں باغ میں اس شوق سے اڑنا
کچھ کھیل میں یہ وقت گنواتی نہیں اپنا
کرتی نہیں کچھ کام اگر عقل تمہاری
ہم تم کو بتاتے ہیں سنو بات ہماری
کہتے ہیں جسے شہد وہ اک طرح کا رس ہے
آوارہ اسی چیز کی خاطر یہ مگس ہے
رکھا ہے خدا نے اسے پھولوں میں چھپا کر
مکھی اسے لے جاتی ہے چھتے میں اڑا کر
ہر پھول سے یہ چوستی پھرتی ہے اسی کو
یہ کام بڑا ہے اسے بے سود نہ جانو
مکھی یہ نہیں ہے کوءی نعمت ہے خدا کی
ملتا نہ ہمیں شہد یہ مکھی جو نہ ہوتی
اس شہد کو پھولوں سے اڑاتی ہے یہ مکھی
خود کھاتی ہے اوروں کو کھلاتی ہے یہ مکھی
انسان کی یہ چیز غذا بھی ہے دوا بھی
قوت ہے اگر اس میں تو ہے اس میں شفا بھی
رکھتے ہو اگر ہوش تو اس بات کو سمجھو
تم شہد کی مکھی کی طرح علم کو ڈھونڈو
یہ علم بھی اک شہد ہے اور شہد بھی ایسا
دنیا میں نہیں شہد کوءی اس سے مصفا
ہر شہد سے جو شہد ہے میٹھا وہ یہی ہے
کرتا ہے جو انسان کو دانا وہ یہی ہے
یہ عقل کے آءینے کو دیتا ہے صفاءی
یہ شہد ہے انسان کی مکھی کی کماءی
سچ سمجھو تو انسان کی عظمت ہے اسی سے
اس خاک کے پتلے کو سنوارا ہے اسی نے
پھولوں کی طرح اپنی کتابوں کو سمجھنا
چسکا ہو اگر تم کو بھی کچھ علم کے رس کا
Customize Your Hybrid Embed Video Player!

6-digit hexadecimal color code without # symbol.

 

Report video function is under development.

 


Loading related videos...