46,016 views 714 on YTPak
125 1

Published on 27 Nov 2009 | over 7 years ago

Pathanay Khan singing Punjabi Sufi kalam of Baba Bulleh Shah
Bulleh Shah (1680-1757) whose real name was Syed Abdullah Shah, was a Punjabi Sufi poet and humanist. He is believed to have been born in the small village of Uch, Bahawalpur in modern day Pakistan. His ancestors had migrated from Bukhara in modern Uzbekistan, in 1680.

Bulleh Shah practiced the Sufi tradition of Punjabi poetry established by poets like Shah Hussain (1538-1599), Sultan Bahu (1629-1691), and Shah Sharaf (1640-1724)

میرا رانجھن ہن کوئی ہور
عرش منور بانگاں ملیاں
سنیاں تخت لاہور
عشق دے مارے ایویں پھردے
جیویں جنگل وچ ڈھور

رانجھن تخت ہزارے دا سائیں
ایتھے بنیا چور

بلھے شاہ اسیں مرنا نا ہیں
گور پیا کوئی ہور
(بلھے شاہ ہم مرنے والے نہیں، قبر میں کوئی اور پڑا ہے)۔

بلھے شاہ سخی درویش کے ہاں پیدا ہوئے اور ان کا نام عبداللہ رکھا گیا۔ ان کے والد اچ شریف چھوڑ کر کے کچھ عرصے ملک وال ضلع ساہیوال میں رہے جہاں بلھے شاہ کا جنم ہوا۔لیکن چند مہینوں میں ہی پنڈپانڈ و ضلع لاہور (قصور کاہنہ روڈ پر واقع) چلے گئے جہاں انہوں نے مسجد کی امامت کر لی اور بچوں کو پڑھانے لگے۔
بلھے شاہ کا بچپن اسی گاؤں میں مویشی چراتے گزرا۔ گاؤں میں امام مسجد کی حیثیت دوسرے دستکاروں کی طرح ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ بلھے شاہ نے زندگی کو بچپن ہی سے پسے ہوئے عوام کی نظروں سے دیکھنا شروع کیا۔
انہوں نے مذہبوں کے ملبے کے نیچے دبے انسانوں کے لیے انسانیت کے لیے ایک نئی کھیتی بوئی۔
بلھے شاہ نے کتابی اور ملاؤں پنڈتوں کے گھسے گھسائے علم کو انسانی فلاح اور برادری کے لیے مضرقرار دیتے ہوئے کہا کہ :
علموں پے قضیئے ہور اکھیں والے انھے کور
پھڑھ لیے سادتے چھڈے چور دوہیں جہانیں ہویا خوار
علموں بس کریں اویار اکوالف تینوں درکار
انہوں نے ملاؤں کی اصلیت بیان کرتے ہوئے کہا:

ملاں تے مشالچی دوہاں اکو چت
لوکاں کردے چاننا آپ ہنیرے وچ

وہ زندگی میں ہر جگہ کشمکش دیکھتے ہیں۔ وہ انسانوں کی ایک دوسرے کے ساتھ جاری جنگ کو حلوائی کی دکان پر رکھی مٹائیوں کی ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوششوں میں بھی (کپوری ریوڑی کیونکر لڑے پتا سے نال)۔

لیکن بلھے شاہ اس کشمکش کے راز سے پردہ ہٹاتے ہوئے کہتے ہیں۔
کتے رام داس کتے فتح محمد ایہوقدیمی شور
نپٹ گیا دوہاں دا جھگڑا وچوں نکل پیا کوئی ہور

(کہیں اس کا نام رام داس ہے اور کہیں فتح محمد۔ لیکن ان ظاہری جھگڑوں کو ختم کر دیا جائے تو اصل مسئلہ کوئی اور ہے۔)
ان کی جسمانی موت پر ملاؤں نے ان کا جنازہ پڑھنے سے انکار کر کے ان کے امر ہونے پر مہر تصدیق کر دی۔ بلھے شاہ نے تو خود کہا تھا بلھے شاہ اسیں مرنا نا ہیں گور پیا کوئی ہور

Loading related videos...