92,967 views 398 on YTPak
289 8

Published on 09 Jun 2008 | over 8 years ago

Allama Muhammad Iqbal ki Mashoor-e-zamana nazam Masjid-e-Qurtaba
مسجد قرطبہ

(ہسپانيہ کي سرزمين ، بالخصوص قرطبہ ميں لکھي گئ)
عشق کے مضراب سے نغمہ تار حيات
عشق سے نور حيات ، عشق سے نار حيات
اے حرم قرطبہ! عشق سے تيرا وجود
عشق سراپا دوام ، جس ميں نہيں رفت و بود
رنگ ہو يا خشت و سنگ ، چنگ ہو يا حرف و صوت
معجزہ فن کي ہے خون جگر سے نمود
قطرہ خون جگر ، سل کو بناتا ہے دل
خون جگر سے صدا سوز و سرور و سرود
شوق مري لے ميں ہے ، شوق مري نے ميں ہے
نغمہ 'اللہ ھو' ميرے رگ و پے ميں ہے

آب روان کبير! تيرے کنارے کوئي
ديکھ رہا ہے کسي اور زمانے کا خواب
عالم نو ہے ابھي پردہ تقدير ميں
ميري نگاہوں ميں ہے اس کي سحر بے حجاب
وادا لکبير، قرطبہ کا مشہور دريا جس کے قريب ہي مسجد قرطبہ واقع ہے -
پردہ اٹھا دوں اگر چہرئہ افکار سے
لا نہ سکے گا فرنگ ميري نواؤں کي تاب
جس ميں نہ ہو انقلاب ، موت ہے وہ زندگي
روح امم کي حيات کشمکش انقلاب
صورت شمشير ہے دست قضا ميں وہ قوم
کرتي ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
نقش ہيں سب ناتمام خون جگر کے بغير
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغير
---------------------------------

Ishaq dam-e-jibraail. ishaq dil-e- Mustafaa
Ishaq Khudaa kaa rasool, ishaq khudaa kaa kalaam
-------------------------------

Poet: Dr. Allama Muhammad Iqbal
(Written in Masjid-e-Qartaba)
(PTV recording)
Singer : Ghulam Ali
----------------------------------

Loading related videos...