81,028 views 592 on YTPak
177 21

Published on 08 Aug 2009 | over 7 years ago

Tableau on 'Parinday ki Faryad, poem for children from Baang-i-Dara (The Call of the Marching Bell; 1924), the third book of poetry by Allama Iqbal, accompanied by a musical rendition of the poem and preceded by a brief introduction for beginners by Muhammad Suheyl Umar, Director, Iqbal Academy Pakistan.

The tableau is included in Iqbal ki Phulwari, a DVD for schools and educational institutions. In Urdu.

Starring: Shujaat Hashmi and young talent. Conceived and Directed by Shujaat Hashmi; Executive Producer: Muhammad Suheyl Umar. Copyright 2007 Iqbal Academy Pakistan, Federal Ministry of Culture (www.allamaiqbal.com).

پر ندے کي فر ياد
بچو ں کے ليے
آتا ہے ياد مجھ کو گزرا ہوا زمانا

وہ باغ کي بہاريں وہ سب کا چہچہانا
آزادياں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کي
اپني خوشي سے آنا اپني خوشي سے جانا
لگتي ہے چوٹ دل پر ، آتا ہے ياد جس دم
شبنم کے آنسوئوں پر کليوں کا مسکرانا
وہ پياري پياري صورت ، وہ کامني سي مورت
آباد جس کے دم سے تھا ميرا آشيانا
آتي نہيں صدائيں اس کي مرے قفس ميں
ہوتي مري رہائي اے کاش ميرے بس ميں!

کيا بد نصيب ہوں ميں گھر کو ترس رہا ہوں
ساتھي تو ہيں وطن ميں ، ميں قيد ميں پڑا ہوں
آئي بہار کلياں پھولوں کي ہنس رہي ہيں
ميں اس اندھيرے گھر ميں قسمت کو رو رہا ہوں
اس قيد کا الہي! دکھڑا کسے سنائوں
ڈر ہے يہيں قفسں ميں ميں غم سے مر نہ جائوں

جب سے چمن چھٹا ہے ، يہ حال ہو گيا ہے
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے
گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے
دکھے ہوئے دلوں کي فرياد يہ صدا ہے
آزاد مجھ کو کر دے ، او قيد کرنے والے!
ميں بے زباں ہوں قيدي ، تو چھوڑ کر دعا لے

Loading related videos...