21,846 views 139 on YTPak
41 2

Published on 12 Feb 2009 | over 8 years ago

Shehanshah-e-ghazal singing ghazal of Khuda-e-sukhan Mir.
-----------------
دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

خانہء دل سے زنہار نہ جا
کوئی ایسے مکاں سے اٹھتا ہے

نالہ سر کھینچتا ہے جب میرا
شور ایک آسماں سے اٹھتا ہے

لڑتی ہے چشمِ شوخ اس کی جہاں
ایک آشوب واں سے اٹھتا ہے

سدھ لے گھر کی بھی شعلہء آواز
دود کچھ آشیاں سے اٹھتا ہے

بیٹھنے کون دے ہے پھر اس کو
جو ترے آستاں سے اٹھتا ہے

یوں اُٹھے آہ اس گلی سے ہم
جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے

عشق اک میر بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
-------------------------
محمد میر عُرف مير تقّى مير ـ اردو كے شاعر ہیں. اردو شاعرى ميں مير تقى مير كا مقام بہت اونچا ہے ـ وہ اپنے زمانے كے ايكـ منفرد شاعر تھے ـ جن كے متعلق اردو كے ايكـ اور مشہور شاعرمرزا غالب نے لکھا ہے ـ
ریختے كےتمہی استاد نہیں ہو غالب ـ
کہتے ہیں اگلے زمانے ميں كوئى مير بھی تھاـ

میر تقی میر تخلص ، آگر ہ میں 1722ءمیں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد کا نام محمد علی تھا لیکن علی متقی کے نام سے مشہور تھے۔ اور درویش گوشہ نشین تھے۔ میر نے ابتدائی تعلیم والد کے دوست سید امان للہ سے حاصل کی۔ میر ابھی نو برس کے تھے کہ وہ چل بسے ان کے بعد ان کے والد نے تعلیم و تربیت شروع کی۔ مگر چند ہی ماہ بعد ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ یہاں سے میر کی زندگی میں رنج و الم کے طویل باب کی ابتداءہوئی۔
ان کے سوتیلے بھائی محمد حسن نے اچھا سلوک نہ کیا۔ تلاش معاش کی فکر میں دہلی پہنچے اور ایک نواب کے ہاں ملازم ہو گئے ۔ مگر جب نواب موصوف ایک جنگ میں مارے گئے تو میر آگرہ لوٹ آئے۔ لیکن گزر اوقات کی کوئی صورت نہ بن سکی۔ چنانچہ دوبارہ دہلی روانہ ہوئے اور اپنے خالو سراج الدین آرزو کے ہاں قیام پذیر ہوئے ۔ سوتیلے بھائی کے اکسانے پر خان آرزو نے بھی پریشان کرنا شروع کر دیا۔ کچھ غم دوراں کچھ غم جاناں ،سے جنوں کی کیفیت پیدا ہو گئی۔

Loading related videos...