38,128 views 339 on YTPak
160 7

Published on 01 Mar 2011 | over 6 years ago

Khudi ka sirr-e-nihaaN La ilaha il Allah
khudi hai tegh-e-fasaaN La ilaha il Allah

The secret of the Self is hid, In words "No god but He alone".
The Self is just a dull-edged sword, "No god but He," the grinding stone.


Yeh daur apne 'Braaheem ki talaash mein hai
Sanam-kadah hai jahaaN La ilaha il Allah

An Abraham by the age is sought To break the idols of this Hall:
The avowal of God's Oneness can Make all these idols headlong fall.


Kiya hai tu ne mataa'-e-gharoor ka sauda
fareb-e-sood-o-ziyaaN ! La ilaha il Allah

A bargain you have struck for goods Of life, a step, that smacks conceit,
All save the Call "No god but He" Is merely fraught with fraud and deceit.


Yeh maal o dawlat-e-dunya, yeh ristha o paivand
butaan-e-vehm-o-gumaaN! La ilaha il Allah

The worldly wealth and riches too, Ties of blood and friends a dream
The idols wrought by doubts untrue, All save God's Oneness empty seem.


Khird huwee hai zamaan o makaan ki zunaari
na hai zamaaN, na makaaN! La ilaha il Allah

The mind has worn the holy thread Of Time and Space like pagans all
Though Time and Space both illusive "No god but He" is true withal.


Yeh naghma fasl-e-gul o laaleh ka nahin paband
bahaar ho ke khizaaN, La ilaha il Allah

These melodious songs are not confined To Time when rose and tulip bloom
Whatever the season of year be "No god but He" must ring till doom.


Agarche but hain jama'at ki aasteenoN mein
mujhe hai hukm-e-azaaN, La ilaha il Allah

Many idols are still concealed' In their sleeves by the Faithful Fold,
I am ordained by Mighty God To raise the call and be much bold.
---------------------
خودی کا لفظ اقبال کے پیغا م یا فلسفہ حیات میں تکبر و غروریا اردو فارسی کے مروجہ معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔ خودی اقبال کے نزدیک نا م ہے احساسِ غیرت مندی کا ،جذبہ خوداری کا اپنی ذات و صفات کا پاس و احساس کا، اپنی انا کو جراحت و شکست سے محفوظ رکھنے کا، حرکت و توانائی کو زندگی کا ضامن سمجھنے کا، مظاہراتِ فطرت سے برسر پیکار رہنے کا اور دوسروں کا سہارا تلاش کرنے کے بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ اقبال کے نقطہ نظر سے خودی زندگی کا آغاز ، وسط اور انجام سبھی کچھ ہے فرد وملت کی ترقی و تنزل ، خود ی کی ترقی و زوال پر منحصر ہے۔ خودی کا تحفظ ، زندگی کا تحفظ اور خودی کا استحکام ، زندگی کا استحکام ہے۔ ازل سے ابد تک خودی ہی کی کارفرمائی ہے۔ اس کی کامرانیاں اور کار کشائیاں بے شمار اور اس کی وسعتیں اور بلندیاں بے کنار ہیں۔اقبال نے ان کا ذکر اپنے کلام میں جگہ جگہ نئے انداز میں کیا ہے۔
خودی کیا ہے راز دورنِ حیات
خودی کیا ہے بیدارئی کائنات
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے
نہ حداس کے پیچھے نہ حد سامنے
زمانے کی دھارے میں بہتی ہوئی
ستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی
ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر
ہوئی خاک ِ آدم میں صورت پذیر
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے
کہیں یہ ظاہر کیا ہے کہ لاالہ الا اللہ کا اصل راز خودی ہے توحید ، خودی کی تلوارکو آب دار بناتی ہے اور خودی ، توحید کی محافظ ہے۔
خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ
کہیں یہ بتایا ہے کہ انسان کی ساری کامیابیوں کا انحصار خودی کی پرورش و تربیت پر ہے۔ قوت اور تربیت یافتہ خودی ہی کی بدولت انسان نے حق و باطل کی جنگ میں فتح پائی ہے۔ خودی زندہ اور پائندہ ہو تو فقر میں شہنشائی کی شان پیدا ہو جاتی ہے۔ اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی تصرف میں آجاتا ہے۔
خودی ہے زندہ تو ہے فقر میں شہنشاہی
ہے سنجرل و طغرل سے کم شکوہِ فقیر
خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب
خودی ہو زندہ تو کہسار پر نیاں و حریر

Loading related videos...