53,234 views 198 on YTPak
172 2

Published on 22 Nov 2009 | over 7 years ago

رات یوں دل میں تیری کھوئی ہوئی یا د آئی
جیسے ویرانے میں چُپکے سے بہار آجائے
جیسے صحرائوں میں ہولے سے چلے بادِ نسیم
جیسے بیمار کو بے وجہ قرار آجائے
---
پھر کوئی آیا دل زار! نہیں کوئی نہیں
راہرو ہو گا، کہیں اور چلا جائے گا
ڈھل چکی رات، بکھرنے لگا تاروں کا غبار
لڑکھڑانے لگے ایوانوں میں خوابیدہ چراغ
سو گئی راستہ تک تک کے ہر ایک راہگزار
اجنبی خاک نے دھندلا دیئے قدموں کے سراغ
گل کرو شمعیں، بڑھا دو مے و مینا و ایاغ
اپنے بےخواب کواڑوں کو مقفل کر لو
اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا
---
چند روز اور میری جاں فقط چند ہی روز
ظلم کی چھاؤں میں دم لینے پہ مجبور ہیں ہم
اور کچھ دیر ستم سہ لیں تڑپ لیں رولیں
اپنے اجداد کی ثمرات ہے معذور ہیں ہم
جسم پر قید ہے جذبات پر زنجیریں ہیں
فکر محبوب ہے، گفتار پر تعزیریں ہیں
اپی ہمت ہے کہ ہم پھر بھی جئیے جاتے ہیں
زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں
ہر گھڑی درد کے پیوند لگے جاتے ہیں
لیکن اب ظلم کی میعاد کے دن تھوڑے ہیں
عرصہ دہرکی جھلسی ہوئی ویرانی میں
ہم کو رہنا ہے پر یونہی تو نہیں رہنا ہے
اجنبی ہاتھوں کا بینام گرانبار ستم
آج سہنا ہے ہمیشہ تو نہیں سہنا ہے
یہ ترےحسن سے لپٹی ہوئی آلام کی گرد
اپنی دو روزہ جوانی کی شکستوں کا شمار
چاندنی راتوں کا بیکار دہکتاہوادرد
دل کی بے سود تڑپ، جسم کی مایوس پکار
چند روز اور میری جاں فقط چند ہی روز
---
بول، کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول، زباں اب تک تیری ہے
تیرا ستواں جسم ہے تیرا
بول، کہ جان اب تک تیری ہے
دیکھ کہ آہن گر کی دوکان میں
تند ہیں شعلے سرخ ہے آہن
کھلنے لگے قفلوں کے دھانے
پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن
بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے
جسم و زباں کی موت سے پہلے
بول، کہ سچ زندہ ہے اب تک
بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے

Loading related videos...