409,765 views 259 on YTPak
1,426 183

Published on 21 Dec 2015 | 12 months ago

سورہ فاتحہ کے کرشمات
(ایک بسترمرگ پرپڑے ہوئے شخص کی سچی داستان۔ سورہ فاتحہ نے جس کی زندگی کو یکسربدل دیا)
میں تقریباً3سال 7ماہ بسترپرپڑا رہا ۔ ڈاکٹروں نے مجھے پھپھڑوں کا کینسربتایا اورمجھے پھوڑا نکل آیا۔ شہرکے مشہوراورمعروف ڈاکٹرمحمدیوسف کے زیرعلاج رہا اورجب تک میرے پاس پیسہ موجود رہا میں علاج کرواتا رہا اوردوائیاں لیتارہا۔ اورجب پیسہ ختم ہوا تومجھے بسترکے سپردکردیاگیا۔ میرا 15سال کابیٹا شہرمیں جاکرمزدورکرتا تھا جس سے ہمارے گھرکانظام چل جاتا تھا اوروہ تھا اتنا کہ میری دوائی کے پیسے نہیں ہوتے تھے، بس کھانا پینا چل جاتا تھا۔ ظاہرہے کہ 15سال کابیٹا کیامزدوری کرے گا اوراسے کتنی مزدوری ملے گی اوراتنا بڑا کنبہ کیسے پلے گا۔ اوراس سے مجھے دوائیاں کیسے مل سکتی ہیں۔
ایک دن میرے رشتے دارمیرے گھرمیری عیادت کرنے آئے اورانہوں نے باتوں ہی باتوں میں خیریت دریافت کی اورکہا تم اتنے پریشان کیوں ہوعلاج کیلئے، تیرے پاس کھانے اوردوائی کے پیسے نہیں ہیں اورگھرویرانہ بنا ہوا ہے اورگھرمیں کچھ نظرنہیں آرہا۔ میں تجھے ایک مشورہ دیتا ہوں ، تیری بیٹی بالغ ہے، جوان ہے اس کوبیچ دے اوراس سے حاصل ہونے والی رقم سے اپنا علاج کروا۔ میری بیوی بھی موجود تھی اورمیری بیوی کو بھی انہوں نے ایسا قائل کیا، میرے اندراُٹھنے کی سکت نہ تھی، اورکھانس کھانس کر ، راتوں کوجاگ جاگ کر، اوردن کے دُکھوں نے مجھے معذورکردیاتھا۔ سالہا سال کے بستراور Bedsoleجوبسترکازخم ہے اس نے ۔ مجھے زندگی کی بازی ہارنے پر مجبورکردیاتھا لیکن میرا شعورزندہ تھا اورمیرا احساس بیدارتھا۔
اور میں سن رہا تھا کہ بیٹی جوان ہے بالغ ہے، اس کو بیچ دو ، بہت سے لے لیں گے اپنا علاج کروا، گھرچلاؤ۔ میں نے اس کو جواب نہ دیا۔ آخرکارمجھے کہنے لگے کہ یہ بیچارا پاگل ہوگیا ہے، بیماری نے اس کوپاگل کردیا ہے۔ ہم نفع کی باتیں کہتے ہیں، اس کو سمجھ ہی نہیں آتیں۔ آپ جاننا چاہتے تھے وہ کون ہیں وہ میرے چچا کے بیٹے تھے، میرے خونی رشتے کے بھائی تھے جو مجھے یہ مشورہ دے رہے تھے، میرے کزن تھے وہ بہت مالدارتھے۔ بجائے اس کے کہ وہ میری مالی معاونت کرتے، میری بیماری میں مجھے سہارا کرتے، میرے دُکھوں کا مداواکرتے، مجھے تسلی کے کچھ بول ہی دے دیتے، انہوں نے مجھے کچھ بھی نہ دیا۔

Loading related videos...