Published on 14 Dec 2015 | about 1 year ago

Voice of our (PAKISTANI) children for 16 Dec 2015. An #ISPR Productions
Mujhay Dushman k Bachon ko Parhana hai
Mujhe Maa Uss se Badla Lena he

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے،دو بچوں
سے ڈرتا ہے”
کے بعد پیش ہے
“مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے
مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے


Lyrics / Subtitles

قلم کی جو جگہ تھی وہ وہی ہے
پر اسکا نام تک باقی نہیں ہے

قلم کی نوک پہ نقطہ ہے اوئی
جو سچ ہو وہ بھلا جھکتا ہے اوئی

وہ جس بچپن میں توڑا اور جینا تھا
وہ جس نے ماں تمھا راخواب چھینا تھا

مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

وہ جس کو سوچ کے سوتی نہیں ماں
کتابیں دیکھ کے روتی رہی ماں

ہے کسی کی واپسی کی راہ تکتے
یہ دروازہ کھلا بابا تو رکھدے

وہ جو ساری ہی نظروں سے گرا تھا
نہ تھا انسان نہ جس کام کا تھا

مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

جو ڈر کے سامنے ہنستا گیا ہے
جو اپنا چھوڑ کر بستہ گیا ہے

تھی ایک کیسی کہانی لکھ گیا وہ
کتابوں میں نشانی رکھ گیا وہ

یہ ماتھا چومنے والا لہو تھا
وہ جس نے خواب کا بھی خون کیا تھا

مجھے ماں اس سے بدلہ لینے جانا ہے
مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے

Muzammil Ahmad Shakeel
Customize Your Hybrid Embed Video Player!

6-digit hexadecimal color code without # symbol.

 

Report video function is under development.

 


Loading related videos...